جب سے مرض ہوا۔۔۔
جب سے مرض ہوا اُسے وہم و گمان کا
رستہ وہ بھول بیٹھا ہے میرے مکان کا
تاروں کی اور قمر کی اسے چاہتیں جو ہیں
خود کو سمجھ رہا ہے مکیں آسمان کا
پھولوں کی دیکھ بھال کو ہم نے رکھا جسے
دیمک تھا باغبان نما گلستان کا
مت بن کھلی کتاب کسی کے بھی سامنے
بن جائے گا رقیب وہ تیری ہی جان کا
گرگٹ بھی اتنا رنگ بدلتے نہیں کبھی
جتنا بدلتے ہیں بشر اپنی زبان کا
وعدے وفا کے کرکے مجھے دے گیا دغا
کیسے یقیں کروں میں اب اس بے زبان کا
رہبر ! وہ زندہ تھوڑی ہیں مردہ سمجھ انہیں
کرتے نہیں جو شکر ادا مہربان کا
آس رہؔبر
Comments
Post a Comment