دوسرا عشق۔۔۔
دوسرا عشق کر نہیں سکتا
یعنی حد سے گزر نہیں سکتا
چوٹ تو گہری دل پہ کھائی مگر
ٹوٹ کر میں بکھر نہیں سکتا
مجھ سے ناتا جو توڑا خوشیوں نے
تو غموں سے میں ڈر نہیں سکتا!
تجھ سے الفت ہے اور رہے گی سدا
اے صنم میں مکر نہیں سکتا
کچھ نہیں میرے پاس غم کے سوا
بن ترے میں سنور نہیں سکتا
میرے دل میں وہ رہتی ہے رہبر
اس کو بے گھر میں کر نہیں سکتا
شاعر :- آس رہبر کتراسگڑھی
Comments
Post a Comment