آنے ‏لگی۔۔۔

یاد مجھ کو صنم تیری آنے لگی
ہائے فکرِ محبت ستانے لگی

دل مِرا سوچ کے یار حیران ہے 
کیسے مجھ سے تو نظریں چرانے لگی! 

میں نے چاہا جسے اپنی جاں سے سوا
وہ رلا کر مجھے مسکرانے لگی !

تو نے مجھ سے کہا تھا کہ "سب کچھ" ہو تم 
بے وفائی تری اب رلانے لگی

میری سانسوں نے مجھ سے بغاوت جو کی 
بن تِرے زندگانی ڈرانے لگی

مر چکا دل مِرا مِٹ گئیں چاہتیں
جو ملی یہ گھٹن مجھ کو کھانے لگی

تو تو کہتی تھی رہبر! تمہاری ہوں میں
پھر بھی اغیار سے دل لگانے لگی 



از قلم :- آس رہبر  

Comments

Popular posts from this blog

جب ‏سے ‏مرض ‏ہوا۔۔۔

حالِ ‏دل ‏کی ‏۔۔۔۔

تجھے ہی ہمیشہ۔۔۔