یادوں سے تیرے۔۔۔
یادوں سے تیری تب تو کنارہ نہیں کیا
تجھ کو جو بھولنے کا ارادہ نہیں کیا
تم نے ہمیں کہا تھا ہمیں بھول جاؤ ، پر
"کرنے کو ہم سے جو بھی کہا تھا ، نہیں کیا"
توڑے ہزار عہد یکے بعد دیگرے
اب یوں دکھا رہی ہے کہ وعدہ نہیں کیا
اپنی دعا کے عین میں نقطہ لگا گئی
ہم نے تو یار عشق میں ایسا نہیں کیا
جب سے گئی ہے تُو ، اسے ٹھکرا کے ، دلربا
رہبر نے عشق وشق دوبارہ نہیں کیا
شاعر :- آس رہبر
Comments
Post a Comment