توڑ کے جاتے ہیں۔۔۔
توڑ کے جاتے ہیں ، رشتے نہ نبھانے والے
یاد آتے ہیں سدا چھوڑ کے جانے والے
تھی محبت کی رمق ان کی نگاہوں میں کبھی
اب تو آنکھیں ہی دکھاتے ہیں ملانے والے
ہم سے الفت ہے انھیں اور نبھائیں گے وہ
کہہ کے جاتے ہیں یہی ، پیار جتانے والے
زندگانی میں کروں اپنی ترے نام مگر
کہہ کے یہ بات ، بنے تم بھی رلانے والے
اس نے گر میری محبت کو جلایا ہے تو
"جل بھی سکتے ہیں کسی روز جلانے والے"
تم نے خوشیوں میں تو ہر وقت مرا ساتھ دیا
غم میں کیوں چھوڑ گئے غم کو مٹانے والے؟
پیار کا دیپ مَیں ہاتھوں مِیں لیے بیٹھا ہوں
کیوں نہیں آتے ہیں اب اس کو جلانے والے؟
ان کی یادوں میں ہے مشغول مرا دل ہر دم
اور یقیں ہے مجھے آئیں گے وہ آنے والے
شعر گوئی میں تو کیوں ڈوب گیا ہے رہبر
اب تجھے کہتے ہیں شاعر یہ زمانے والے
شاعر :- آس رہبر
Comments
Post a Comment